Print this page

مولانا شاہ محمد اسمعیل شہید رحمہ اللہ کی تحریکی سرگرمیاں

Written by 27 Nov,2016

تصانیف :
حضرت شاہ محمد اسمعیل شہید دہلوی کی عربی،فارسی اور اُردو تصانیف کی تعداد 15 ہے ذیل میں صرف 2 تصانیف کا تعارف پیش خدمت ہے۔
تقویۃ الایمان :
حضرت شاہ اسماعیل نے عربی میں ایک کتاب ’’رد الاشراک‘‘کےنام سے تالیف فرمائی جو 2 ابواب پر مشتمل ہے۔
پہلے باب کا ترجمہ اردو میں بنام’’تقویۃ الایمان‘‘ کیا۔
دوسرے باب کا ترجمہ مولوی سلطان محمد خان نے ’’تذکیر الاخوان‘‘ کے نام سے کیا۔
تقویۃ الایمان کا موضوع توحید ہے اور اس کتاب میں قرآن وحدیث کے ٹھوس دلائل توحید الٰہی کی تشریح وتوضیح اور شرک کی تردید کی گئی ہے اس کتاب میں کسی امام،مجتہد اور فقیہ کا قول نقل نہیں کیاگیا۔
تقویۃ الایمان میں حضرت شاہ صاحب نے قرآن کریم کی 360 آیات اور مشکوۃ المصابیح سے 43 احادیث سے دلائل پیش کرکے شرک وبدعت کا رد کیاہے۔
اس کتاب کے مطالعہ سے لوگوں کو بہت نفع ہوا اور ان کے عقائد درست ہوگئے۔
تقویۃ الایمان کی تائید میں علمائے اسلام کے اقوال :
1 شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی فرماتے ہیں ’’ تحریر اور تقریر مولانا صاحب’’تقویۃ الایمان‘‘ ہیں مثل تحریر وتقریر امام رازی مفسر’’تفسیر کبیر‘‘ کے اور مسائل واحکام ’’تقویۃ الایمان‘‘ موافق کتب اہل سنت کے ہیں۔(اکمل البیان فی تائید تقویۃ الایمان ص 795)
2 مولانا رشید احمد گنگوہی فرماتے ہیں
کتاب تقویۃ الایمان نہایت سچی اور عمدہ کتاب اور موجب قوت واصلاح ایمان کی ہے اور قرآن وحدیث کا مطلب پورا اس میں ہے اس کا مؤلف ایک مقبول بندہ تھا۔ ( فتاوی نذیریہ 1/105)
3 تقویۃ الایمان سے لوگوں کو بہت نفع ہوا چنانچہ مولوی اسماعیل کی حیات ہی میں دو دہائی لاکھ آدمی درست ہوگئے تھے اور ان کے بعد جو نفع ہوا تو اس کا اندازہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ( فتاوی رشیدیہ ص 42۔43)
4 شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی فرماتے ہیں
عالم نبیل،فاضل جلیل مولانامولوی اسماعیل شہید دہلوی نے رسالہ’’تقویۃ الایمان‘‘ لکھا جس میں نصوص صریحہ سے نہایت سلاسلت کے ساتھ مضامین توحید کو اچھی طرح بیان فرمایا اور قدرت حق تعالیٰ جل شانہ کو جملہ بنی آدم ومخلوقات پر ثابت کرکے اہل شرک وبدعت کو ان کے خیالات باطلہ کی خرابی پر مطلع فرمایا اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ہدایت وصحت عقائد نصیب ہوئی۔ ( تذکرہ شہید ص 249)
5 علامہ سید سلیمان ندوی فرماتے ہیں کہ
قرآن پاک کے بعد مولانا محمد اسمعیل شہید کی ’’تقویۃ الایمان‘‘ میرے ہاتھ میں دین کی پہلی کتاب دی گئی میں ان بے بسیوں کے بیچ میں بیٹھ کر تقویۃ الایمان کی ایک ایک بات پڑھتا اور بھائی صاحب مرحوم(مولانا حکیم سید ابو حبیب رحمہ اللہ) پردہ کے پیچھے سے ایک ایک مسئلہ کی تشریح وتفسیر فرماتے اور جو وہ میرے دل میں بیٹھ جاتا۔
یہ پہلی کتاب تھی جس نے مجھے دین حق کی باتیں سکھائیں اور ایسی سکھائیں کہ اثنائے تعلیم ومطالعہ میں بیسیوں آندھیاں آتیں کتنی دفعہ خیالات کے طوفان اُٹھے مگر اس وقت جو باتیں جڑ پکڑ چکی تھیں ان میں سے ایک بھی اپنی جگہ سے ہل نہ سکی، علم الکلام کے مسائل، اشاعرہ اور معتزلہ کے نزاعات، غزالی ورازی وابن رشد کے دلائل یکے بعد دیگرے نگاہوں سے گزرے مگر اسماعیل شہید کی تلقین بہر حال اپنی جگہ قائم رہی۔ ( حیات سلیمان از مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی مطبوعہ اعظم گڑھ)
6 مولانا عبید اللہ سندھی فرماتے ہیں کہ
۱۔ تحفۂ الہند کے بعد جو دوسری کتاب ہمارے ہاتھ میں آئی وہ مولانا محمد اسمعیل شہید کی ’’تقویۃ الایمان‘‘ تھی جو اس سوال کا جواب شافی تھا اور جس سے ہم کو معلوم ہوگیا کہ اسلام کی توحید بالکل خالص ہے۔ (مشاہیر اہل علم کی محسن کتابیں ص 8۔9)
۲۔ یہ کتاب اگر پانچ سو برس پہلے لکھی جاتی تو ہندوستانی مسلمان دنیا کے مسلمانوں سے بہت آگے بڑھ جاتا۔ (مشاہیر اہل علم کی محسن کتابیں ، ص29)
۳۔اسلام کے اظہار سے پہلے میں نے شاہ صاحب کی ’’تقویۃ الایمان‘‘ پڑھی تھی چنانچہ ردّ شرک میں مجھے اس سے بڑا فائدہ پہنچا بلکہ ایک لحاظ سے یہ کتاب مجھے اسلام میں لانے کا ذریعہ بنی، غرضیکہ امام محمداسمعیل میرے اُستاد اورامام ہیں، اور مجھے ان سے محبت ہے ایسی محبت جس طرح لوگ اپنے مذہب کے ائمہ سے کرتے ہیں ۔ (شاہ ولی اللہ اور اُن کی سیاسی تحریک ص 75)
۴۔ مولانا سندھی مرحوم نے اپنی کتاب ’’شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک‘‘ میں مولانا فتح اللہ مرحوم کے کچھ اشعار نقل کئے ہیں جن میں پہلے دو شعر درج ذیل ہیں۔
تھے جو اسمعیل غازی مولوی
عد کے دریا مراتب کے ولی
ایک کتاب حق اُنہوں نے جب لکھی
اس میں تفریق حق وباطل کی ہوئی
(أیضاً ، ص 75)
تنویر العینین فی اثبات رفیع الیدین :
یہ کتاب عربی زبان میں ہے اس میں حضرت شاہ صاحب نے متعدد احادیث کے حوالے سے نماز میں رفع الیدین کرنے کا ثبوت مہم پہنچایا ہے اور تقلید وعدم تقلید کے مسئلے پر بھی بحث کی ہے مولانا محمد اسمعیل شہید دہلوی نے یہ کتاب اس زمانہ میں تالیف فرمائی جب کہ حضرت شاہ عبد العزیز اور حضرت شاہ عبد القادر محدث دہلوی حیات تھے یعنی یہ کتاب 1230ھ/1815ء سے پہلے لکھی گئی اس لیے کہ حضرت شاہ عبد القادر کا سن وفات 1230ھ/1815ء ہے اور حضرت شاہ عبد العزیز کا انتقال 1239ھ/1822 میں ہوا۔
تنویر العینین جب حضرت شاہ عبد العزیز اور حضرت شاہ عبد القادر رحمہم اللہ کی نظر سے گزری تو حضرت شاہ عبد العزیز نے فرمایا کہ
خدا کا شکر ہے کہ یہ گھر محققین علم حدیث سے خالی نہیں ہے۔ ( اتحاف النبلا ص 44)
چنانچہ اس کے بعد حضرت شاہ شہید نے رفیع الیدین پر عمل شروع فرمادیا تھا اور آپ حضرت شاہ عبد العزیز کی حیات میں سنت نبوی ﷺ پر عمل پیرا ہوئے اسی طرح حضرت شاہ رفیع الدین دہلوی کے فرزند ارجمند حضرت شاہ مخصوص اللہ بھی رفیع الیدین اور آمین بالجہر پر عمل پیرا تھے۔ (تذکرہ شہید ص 270)
تنویر العینین کا مقلدین احناف کی طرف سے جواب اور علمائے اہلحدیث کی طرف سے دفاع :
تنویر العینین میں حضرت شاہ اسمعیل شہید دہلوی نے رفع الیدین کے علاوہ آمین بالجہر، فاتحہ خلف الامام اور تقلید شخصی کی تردید وغیرہ کی طرف بھی اشارات فرمائے تھے اس لیے مقلدین حضرات کو یہ کتاب ناگوار گزری چنانچہ’’تنویر العینین‘‘ کا جواب مولوی محمد شاہ پاک ٹپٹی( جو ایک غالی مقلد تھے اور حدیث حضرت میاں نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ سے پڑھی تھی) نے ’’تنویر الحق‘‘ کے نام سے لکھا تنویر کا جواب حضرت شیخ الکل مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی (1320ھ/ 1902ء) نے ’’معیار الحق‘‘ کے نام سے دیا معیار الحق کا جواب مولوی ارشاد حسین رام پوری (1311ھ) نے ’’انتصار الحق‘‘ کے نام سے دیا اور اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ
انتصار الحق کا جواب کوئی غیر مقلد عالم نہیں دے سکے گا۔
معیار الحق اور انتصار الحق دونوں کتابیں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد(م1958ء) کے مطالعہ میں آئیں تو آپ نے فرمایا :
مجھ پر معیار الحق کی سنجیدہ اور وزنی بحث کا بہت اثر پڑا اور صاحب ارشاد الحق(انتصار الحق) کا علمی ضعف صاف صاف نظر آگیا۔(آزاد کی کہانی آزادکی زبانی ص 366)
انتصار الحق کے چار جواب :
انتصار الحق کتاب کے حضرت شیخ الکل میاں صاحب دہلوی کے چار تلامذہ نے جواب لکھے۔
پہلا جواب : مولانا سید امیر حسن سہیوانی نے ایک ہی دن میں ’’برائین اثنا عشر‘‘ کے نام سے لکھا اور اس کا ایک نسخہ مولانا ابو الحسنات محمد عبد الحی لکھنوی ( م 1304ھ) کو بھی بھیجا۔ مولانا عبد الحی نے مولانا سید امیر حسن کو کتاب کی رسید میں لکھا ۔
از محمدعبد الحی مولوی صاحب مکرم معظم مجمع البحرین المعقول المنقول منبع نہرین جامع الفروع والاصول مولوی سید امیر حسن صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ لطف شمامہ مورخہ 20 ما ہ رواں بورووخود ممتاز ساختہ وبرائین اثنا عشر رسیدہ اغلاط سامی کتب مولفین ’’انتصار لا تعد ہستند شاید بنظر اختصار برچند کفایت شدہ۔ (الحیاۃ بعد المماۃ ص 295۔296)
دوسرا جواب : مولانا سید احمد حسن دہلوی مؤلف تفسیر احسن التفاسیر نے تلخیص الانظار فیما بنی علیہ الانتصار‘‘ کے نام سے لکھا۔
تیسرا جواب : مولانا شہود الحق عظیم آبادی ( م 1340ھ) نے ’’البحر الذخار لازہاق صاحب الانتصار‘‘ کے نام سے تالیف فرمایا۔
چوتھا جواب : مولانا احتشام الدین مراد آبادی مؤلف ’’ نصیحہ الشیعہ‘‘ نے اختیار الحق کے نام سے دیا ۔ ( تذکرہ شہید ص 271)
اعتراف عظمت :
حضرت شاہ اسمعیل شہید دہلوی کے علم وفضل اور ان کے مجاہدانہ کارناموں کا علمائے اسلام ، ارباب سیر اور مصنفین ومؤلفین نے اعتراف کیا ہے اور ان کے سیرت وکردار پر روشنی ڈالی ہے ذیل میں چند نامور زعماء کے تاثرات درج کئے جاتے ہیں۔
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی :
الحمد للہ الذی وھب لی علی الکبر اسمعیل واسحاق
اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اس بڑھاپے میں اسمعیل واسحاق علیہما السلام عطا فرمائے۔ ( الحیاۃ بعد المماۃ ص 108)
مولانا سید نواب صدیق حسن خان :
معقول ومنقول میں پہلوں کی یاد بھلا دیتے تھے فروع واصول میں ائمہ کو پرے بٹھا دیتے تھے جس علم میں ان سے بات کرو گے تو جان لو گے کہ وہ اس فن کے امام ہیں اور جس فن میں ان سے مناظرہ کی نوبت آئے گی تو پہچان لو گے کہ وہ اس فن کے حافظ ہیں۔ ( اتحاف النبلاء ص 417)
مولانا فضل حق خیر آبادی :
حضرت شاہ صاحب کی شہادت کی خبر سن کر دیر تک خاموش رہے پھر فرمانے لگے ۔ اسمعیل کو ہم مولوی نہیں مانتے تھے بلکہ وہ امت محمدیہ کا حکیم تھا کوئی شے نہ تھی جس کی انسیت ان کے ذہن میں نہ ہو امام رازی نے اگر علم حاصل کیا ہے تو دور چراغ دکھا کر اور اسمعیل نے محض اپنی قابلیت اور استعداد خداداد سے ۔ ( الحیاۃ بعد المماۃ ص 110)
مولوی رحمان علی بریلوی
ابن مولوی عبد الغنی بن مولانا شاہ ولی اللہ درریاضت ورسائی فکر یگانہ روزگار ومشارٌ الیہ علمای کبار بود
یعنی مولوی عبد الغنی کے یہ فرزند اور مولانا شاہ ولی اللہ کے پوتے دیانت اور فہم وفکر میں یگانہ روزگار تھے علمائے کبار میں مشارٌ الیہ تھے ۔ (تذکرہ علمائے ہند ص 179)
ڈاکٹر ثریا ڈار صاحبہ
شاہ صاحب ایک جید علام، دینی مفکر، قاطع بدعت، بلند پایہ مبلغ اور عظیم مجتہد تھے وہ غیر معمولی وسعت کے مالک ، ذہین وفریس ، دین سے انتہائی محبت رکھنے والے اور متقی وپرہیزگار تھے اسلام کی تبلیغ کے لیے حیرت انگیز شجاعت، قلبی واخلاقی بلندی اور بے پناہ سیرت کے مالک تھے ۔ ( شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اور ان کی علمی خدمات ص 180)
علامہ ڈاکٹر محمد اقبال
ہندوستان نے ایک مولوی پیدا کیا اور وہ شاہ محمد اسمعیل کی ذات تھی۔ ( اسپکٹس آف شاہ اسمعیل شہید ص 44)
شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی
برائے رہبری قوم فساق
دوبارہ آمد اسمعیل واسحاق ( الحیاۃ بعد المماۃ ص 197)
مولانا غلام رسول مہر
ایسا عالم باعمل فاضل بے بدل، صاحب اخلاق، شہرہ آفاق، المعنی زماں ، لوذعی دوراں، واقف علوم معقول ومنقول ، کاشف وقائق فروع واصول، رافع اعلام توحید وسنت ، قامع بنیان شرک وبدعت ، فتوت کردار،شجاعت وثار، اس وقت میں ہم نے کہیں نہ سنا نہ دیکھا۔ ( تذکرہ شہید ص 321)
اردو دائرۃ المعارف الاسلامیہ مطبوعہ پنجاب یونیورسٹی لاہور
شاہ اسمعیل شہید اپنے کمالات کے باعث رب ذوالجلال کی قدرت کا ایک نمونہ تھے۔ ( اردو دائرہ المعارف الاسلامیہ ص 752)
متکلم اسلام مولانا محمد حنیف ندوی
مولانا اسمعیل شہید دہلوی ’’فرزند توحید ‘‘ تھے۔ (تذکرہ شہید ص 10)
ڈاکٹر محمد باقر
خلافت راشدہ کے بعد اسلام کے حقیقی نمونے کے بہت مسلمان پیدا کئے ہیں اور شاہ اسمعیل شہید ایسے راسخ العقیدہ مسلمان تو اس سے بھی کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ (اسمعیل شہید مرتبہ عبد اللہ جٹ ص 30)
ڈاکٹر تصدق حسين خالد
برطانوی سامراج نے تحریک ترغیب محمدیہ کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن یہ عظیم الشان تحریک نابود نہ ہوسکی جن کی زندگیاں ہر قسم کی آلودگی سے پاک تھیں اور ان کے سینے میں ایک شمع فروزاں تھی جس سے وہ غیر اسلامی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے یہ بیداری اس مذہبی اصلاح اور ملی احساس کا نتیجہ تھی جسے شاہ عبد العزیز دہلوی اور اُن کے بلند مرتبہ مقلدین شاہ اسمعیل شہید اور سید احمد شہید رائے بریلوی نے پیدا کیا۔ ( اسمعیل شہید مرتبہ عبد اللہ جٹ ص 70)
مولانا سعید احمد اکبر آبادی
شاہ اسمعیل شہید حقیقی معنوں میں خدائی خدمت گار تھے وہ خدا کی زمین پر خدا کی بادشاہت قائم کرکے دنیا میں عدل وانصاف، حق وصداقت اور امن کی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے لیکن ان کی یہ اسلامی تحریک بھی مسلمانوں کی غداری کے باعث کامیاب نہ ہوسکی۔ ( اسمعیل شہید مرتبہ عبد اللہ جٹ ص 144)
مولانا سید ابو الحسن علی ندوی
جہاں تک مولانا شاہ محمد اسماعیل شہید کا تعلق ہے وہ ان الو العزم ،عالی ہمت،ذکی، جری اور غیر معمولی افراد میں تھے جو صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں وہ مجتہدانہ دماغ کے مالک تھے اور اس میں ذرا مبالغہ نہیں کہ ان میں بہت سے علوم کو از سر نو مدون کرنے کی قدرت وصلاحیت تھی۔ (تاریخ دعوت وعزیمت 5/378)
ب۔ آپ کی زبان میں ایسی تاثیر تھی کہ پتھر موم،دشمن دوست،منکر معتقد ہوجاتا تھا علمی کمالات کے ساتھ دولت باطن اور کمالات روحانی سے بھی مالا مال تھے۔ ( کاروان ایمان وعزیمت ص 28)
مولانا قاضی محمد اسلم سیف
شاہ ولی اللہ دہلوی نے برصغیر میں قرآن وحدیث کی جو تحریک شروع کی اور فقہ الحدیث کے نام سے حدیث فہمی کی جو طرح ڈالی اس کا نقطۂ آغاز شاہ ولی اللہ اور اس کا نقطہ انجام شاہ اسمعیل شہید سے مکمل ہوا ۔ ( تحریک اہلحدیث تاریخ کے آئینے میں ص 231)
مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ
مولانا شہید بہت بڑے عالم، معقول ومنقول کے ماہر ، فروع واصول کے امام اور ہر فن میں درجۂ اجتہاد پر فائز تھے زندگی کا ہر لمحہ اعلائے کلمۃ اللہ، احیائے سنت رسول اللہ ﷺ ، جہاد فی سبیل اللہ اور ہدایت خلق اللہ گزرا نہایت جری اور شجاع تھے وعظ وتقریر میں ان کا کوئی ہمسر نہ تھا واضح اور مدلل گفتگو کرتے اللہ کے سوا کسی کا ڈر اور خوف ان کے دل میں نہ تھا خطر ناک سے خطر ناک مواقع پر بلاجھجھک تنہا جا کھڑے ہوتے دبلے پتلے اور لاغر اندام تھے مگر عزیمت واستقامت میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے ایک تجربہ جرنیل کی طرح جنگ کی منصوبہ بندی کرتے، اور دشمن کے پروارکار کامیابی سے دفاع کرتے سادہ مزاج اور سادہ طبیعت تھے کھانے پینے اور لباس میں کسی قسم کا تکلف نہ تھا ملنسار،بلند کردار اور ہمدرد خلائق تھے فن مناظرہ کے ماہر تھے خاص علمی اور تحقیقی انداز میں گفتگو کرتے اور ہر اعتراض کا مسکت جواب دیتے۔ ( فقہائے ہند ، جلد 6 ص 541)
مولانا محمد خالد سیف فیصل آبادی
مولانا محمد خالد سیف حفظہ اللہ اپنی کتاب ’’تذکرہ شہید‘‘ میں فرماتے ہیں کہ
’’امام محمد اسمعیل شہید دہلوی علم وفضل کے اعتبار سے کوہ گراں تھے ان کی حق گوئی اور بیباکی مشہور تھی اور ان کا زہد وتقویٰ اور تہجد گزاری وشب زندہ داری ضرب المثل تھی اور ان کو اپنے رفقاء واحباب کا اس قدر احساس تھا کہ ان کے ادائے حقوق میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرتے تھے اور علم وفضل کے ساتھ آپ کی شجاعتوں اور بسالتوں کے چرچے بھی چار دانگ عالم میں پھیل چکے تھے آپ تحریک جہاد میں اول سے آخر تک روح رواں رہے اور ان میں ایک وصف بدرجہ اتم پایا جاتاتھا کہ آپ حد درجہ مردم شناس تھے آپ حقانی ربانی، ذی فراصت وصاحب کرامت بزرگ تھے تمام علوم عالیہ وآلیہ میں

اعلیٰ وارفع تھے فہم قرآن وحدیث سے بہرہ وافر رکھتے تھے نماز میں خشوع وخضوع اور آداب کا خصوصی خیال رکھتے تھے برجستگی کے وصف سےبھی متصف تھے کہ سامعین حیرت واستعجاب میں ڈوبے جاتے نشانہ بازی میں انہیں خاص مہارت حاصل تھی۔ ( تذکرہ شہید) 
حضرت شاہ اسمعیل شہید بلند مایہ خطیب ، مقرر،واعظ اور مبلغ تھے حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی فرمایا کرتے تھے:
میری تقریر اسمعیل نے لے لی تحریر رشید الدین نے اور تقویٰ اسحاق نے۔ (تواریخ عجیبہ ص 142)
استدراک
حضرت سيد احمد شہید اور مولانا شاہ اسمعیل شہید دہلوی سے قبل ہندوستان کی مذہبی حالت
مُلا عبد القادر بدایونی
مولانا سید ابو الحسن علی ندوی عہد اکبری کے مورخ ملا عبد القادر بدایونی کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ
حقیقت یہ ہے کہ اگر ہندوستان میں اللہ تعالیٰ دو شخصوں کو پیدا نہ کرتا اور ان سے اپنے دین کی دستگیری نہ فرماتا تو یوں اللہ تعالیٰ اپنے دین کا نگہبان ہے اس کی حفاظت دین کے طریقے ہزار ہیں لیکن بظاہر 13 ویں صدی تک یا تو اسلام ہندوستان سے بالکل فنا ہوجاتا یا اتنا بگڑ جاتا جتنا ہندومذہب ہے یہ دو بزرگ ہندوستان کے مسلمانوں کے جلیل القدر محسن اور اسلام کے عظیم الشان پیشوا حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمہ اللہ اور شیخ الاسلام شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ ہیں احیائے اسلام اور خدمت شرع کے تذکرے میں ان نائبان رسول اللہ ﷺ اور درویشوں کے ساتھ ایک دنیادار بادشاہ محی الدین اورنگ زیب عالمگیر مرحوم کا نام بھی زبان پر آتا ہے۔
ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشآء (الجمعۃ : 4)
یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے ۔
(سیرت سید احمد شہید ص 49۔50)
علامہ سید سلیمان ندوی
مورخ اسلام اور صاحب سیرت النبی ﷺ علامہ سید سلیمان ندوی ( 1953ء) سیرت سید احمد شہید کے مقدمہ میں فرماتے ہیں کہ
13ویں صدی میں جب ایک طرف ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت فنا ہورہی تھی اور دوسری طرف ان میں مشرکانہ رسوم وبدعا ت کا زور تھا مولانا اسمعیل شہید اور حضرت سید احمد بریلوی رحمہما اللہ کی مجاہدانہ کوششوں نے تجدید دین کی نئی تحریک شروع کی یہ وہ وقت تھا جب سارے پنجاب میں سکھوں کا اور باقی ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ تھا ان دو بزرگوں نے اپنی بلند ہمتی سے اسلام کا عَلم اُٹھایا اور مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دی جس کی آواز ہمالیہ کی چوٹیوں اور نیپال کی ترائیوں سے لے کر خلیج بنگال کے کناروں تک یکساں پھیل گئی اور لوگ جوق در جوق اس عَلم کے نیچے جمع ہونے لگے اس مجددانہ کارنامے کی عام تاریخ لوگوں تک یہی معلوم ہے کہ ان مجاہدوں نے سرحد پار ہوکر سکھوں سے مقابلہ کیا اور شہید ہوگئے حالانکہ یہ واقعہ اس کی پوری تاریخ کا ایک باب ہے ۔ (سیرت سید احمد شہید ص 2

Read 134 times Last modified on 27 Nov,2016
Rate this item
(1 Vote)
عبدالرشید عراقی

Latest from عبدالرشید عراقی

Related items