Print this page

ایک مسلمان قیدی کی غیر مسلم عدالت میں آخری گفتگو

Written by بندۂ خاکی کے قلم سے 10 Apr,2011

جج کمرے میں داخل ہوتی ہے۔ سب کھڑے ہوجاتے ہیں سوائے مسلمان قیدی کے ۔

جج: مسٹر

مسلمان قیدی: ہاں

جج: میرا خیال ہے آپ کو کھڑے ہوجانا چاہیے۔

مسلمان قیدی کوئی جواب نہیں دیتا۔

جج: کیا آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟

مسلمان قیدی: مجھے اپنی بات کہنے کے لیے پانچ سے دس منٹ چاہیے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ جج اور کورٹ اپنا فیصلہ سنانے سے پہلے میری بات غور سے سنیں گے۔ جس کے بعد وہ یوں مخاطب ہوتاہے ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ یہ صرف ایک زندگی ہے۔ اگر مجھے ہزاروں زندگیاں بھی ملیں تو میں انہیں بخوشی اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلنے میں‘۔ اپنی سرحدوں کا دفاع کرتے اور اللہ تعالیٰ کے قانون(شریعت) کی سربلندی کے لیے قربان کردوں گا۔ اللہ تعالیٰ کا قانون ہر انسانی نظام اور قانون سے بالاتر اور عظیم ہے۔ ہم انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کی پابندی نہیں کرتے کیونکہ یہ ہمیشہ باطل ہی ہوتے ہیں اور میں حال ہی میں بہت اچھی طرح تمہارے قوانین دیکھ چکا ہوں۔ جب تمہاری خفیہ پولیس نے جبری گرفتاری کے دوسرے دن مجھے ملکی شہریت کے تحت حقوق دینے سے انکار کردیا۔ جس کی وجہ سے میرا خاندان اور بچے متاثر ہوئے۔ تمہاری دی ہوئی سزا میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ تمہاری یہ عدالت مجھے کیسے سزا دے سکتی ہے جب وہ میرے لوگوں پر ہوتے ہوئے مظالم نہ سمجھتی ہو۔ جب تمہارے نزدیک مسلمانوں کی زندگیوں کی کوئی اہمیت ہی نہیں تو تم کس طرح ہماری بات سمجھ سکتے ہو اور کیسے ہمارے ساتھ انصاف کرسکتے ہو؟ ان شاء اللہ روزِ قیامت اللہ فیصلہ کرے گا کہ تم میں اور ہم میں کون حق پر تھا۔تمہاری سزا صرف اور صرف اس دنیا کی حد تک ہے سو جو تم نے کرنا ہے کرلو اور جو سزا دینی ہے دے لو۔

پچھلے نو سال سے نیٹو کے صلیبی جمہوریت اور آزادی کے نام پر مسلمانوں کی املاک اور علاقوں پر غاصبانہ قبضہ کر چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کررہے ہیں۔ میں ان سے کہتاہوں کہ ہم نہ ہی تمہاری جمہوریت کو مانتے ہیں اور نہ ہی تمہاری نام نہاد آزادی کو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا قانون(شریعت) اور اس کی دی ہوئی آزادی موجود ہے۔

میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ تیار ہوجاؤ تمہاری جنگ مسلمانوں سے شروع ہوچکی ہے۔ میں تو بارش کا پہلا قطرہ ہوں میرے پیچھے آنے والے سیلاب کی تباہی کے لیے تیار ہو جاؤ اور یہ بات ذہن میں رکھنا کہ یہ نہ جاپانی امپیر یلزم ہے نہ یہ جرمن امپیر یلزم اور نہ یہ ویت نام ہے نہ ہی روسی کمیونزم۔ اس دفعہ تمہاری ٹکر ان لوگوں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے احکامات پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ تمہاری یہ جنگ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے ہے اور میں بھی دیکھتا ہوں کہ تم کیسے اپنے خالق سے لڑ سکتے ہو، تم کبھی بھی اس میں کامیاب نہیں ہوسکتے چنانچہ تمہاری شکست یقینی ہے اور وہ بہت قریب ہے۔ ان شاء اللہ

تمہاری شکست کے ساتھ ہی خلافتِ اسلامیہ وجود میں آئے گی جو حقیقی اور سچا’’یونیورسل ورلڈ آرڈر‘‘ ہے۔ عنقریب تمہارا بچا کچھا وہ سرمایہ جس نے تمہاری کمزور اور حساس معیشت کو سنبھال رکھا ہے۔ ختم ہوجائے گا اور تم لوگ جنگی اخراجات اٹھانے کے قابل نہیں رہو گے۔

جج: تمہیں اس ملک کی شہریت کچھ سال پہلے ہی ملی ہے۔ کیا میں ٹھیک کہہ رہی ہوں؟

مسلمان قیدی: ہاں! جہاں تک مجھے یاد ہے پچھلے سال اپریل میں۔

جج: جب تمہیں شہریت مل رہی تھی کیا تم نے اس ملک سے وفاداری کی قسم نہیں کھائی تھی؟

مسلمان قیدی: ہاں قسم کھائی تھی مگر وہ جھوٹی تھی۔

جج: ٹھیک ہے ، کچھ اور کہنا چاہتے ہو؟

مسلمان قیدی: کیوں نہیں؟ مجھے افسوس ہے کہ میں ایک غلام ملک میں پیدا ہوا۔ جس نے اپنی آزادی کے پہلے دن سے ہی مغرب کی غلامی اختیار کرلی تھی۔آپ کے صدر نے جب یہ جنگ شروع کی تھی تو اس نے بالکل واضح الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ یا تو تم ہمارے ساتھ ہویا ہمارے خلاف ہو۔ اس سے یہ بالکل واضح ہے کہ ہم یا تو مسلمانوں کے ساتھی ہیں یا ہم صلیبی ہارنے والے عیسائیوں کے ساتھ ہیں۔ اس کے علاوہ ان چیزوں کا کوئی اور مطلب نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہومسلمانوں پر اور امیر محترم پر جو اکیسویں صدی کی صلیبی جنگ کے صلاح الدین ایوبی a کے طور پر جانے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ان پر جنہوں نے مسلمانوںکو پناہ دی۔

جج: آپ صلاح الدین ایوبی a کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟

مسلمان قیدی : میں صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے بارے میں کتنا جانتا ہوں؟

جج: ہاں۔

مسلمان قیدی: وہ مسلمان لیڈر تھے جنہوں نے مغربی یورپین ملکوں کے خلاف پہلی صلیبی جنگ لڑی تھی۔

جج:لیکن وہ لوگوں کو قتل کرنا نہیں چاہتے تھے۔

مسلمان قیدی: وہ مسلمانوں کو آزاد کرانا چاہتے تھے۔

جج: وہ بہت روشن خیال انسان تھے۔

مسلمان قیدی: انہوں نے مسلمانوں کے علاقوں کو یہودیوں اور عیسائیوں سے آزاد کرایا تھا اور یہی مقصد ہمارا بھی ہے کیونکہ تم نے جمہوریت اور آزادی کے نام پر عراق اور افغانستان پر قبضہ کرلیا ہے۔ ہم یہ کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ ان شاء اللہ۔ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا قانون شریعت کی شکل میں موجود ہے ہمیں تمہارے بنائے ہوئے انسانی قوانین کی کوئی ضرورت نہیں۔

جج: ٹھیک ہے۔ ٹھیک ہے، شکریہ۔ کیا تمہارا وکیل کچھ کہنا چاہتا ہے؟

مسلمان قیدی :میں اپنی بات مکمل کرنا چاہتا ہوں ۔مجھے صرف دو منٹ مزید چاہئیں۔

جج: ٹھیک ہے، میں سننا چاہتی ہوں کہ تم اپنی سزا کے متعلق کیا چاہتے ہو؟

مسلمان قیدی: کیوں نہیں ! میں اس بات کی طرف ہی آرہا ہوں۔ پچھلے نو سال میں مسلمانوں سے جنگ میں آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ سوائے اس کے کہ اس نے مسلمانوں کو جگا دیا ہے۔ مسلمان تو صرف اپنے دین، اپنے لوگوں ، اپنی عزتوں اور سرزمین کی حفاظت اور دفاع کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر اس وجہ سے تم ہمیں دہشت گرد کہتے ہو تو ہم فخر سے کہتے ہیں کہ ہاں ہم دہشت گرد ہیں اور ہم تمہیں دہشت زدہ کرتے رہیں گے۔جب تک تم ہماری زمینوں اور علاقوں سے نکل نہیں جاتے اور لوگوں کو امن سے نہیں چھوڑ دیتے اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو یادرکھو! تمہارے پاس گھڑیاں ہیں اور ہمارے پاس وقت ہے۔ ہم تمہیں وقت سے شکست دیں گے۔ اس سے پہلے کہ میں اپنی بات ختم کروں میں تم لوگوں کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں جو کہ پیغام حق ہے تاکہ جب روزِ قیامت تمہاری اللہ تعالیٰ ربِ کائنات سے ملاقات ہوتو تم یہ نہ کہہ سکو کہ کسی نے تم تک پیغام نہیں پہنچایا۔ پیغام یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی ربِ کائنات ہے۔ محمدe اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو پیغام دیتی ہے کہ اسلام قبول کر لو مسلمان ہو جاؤ اور اپنے آپ کو قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے بچاؤ۔

اشھد أن لا الہ الا اللہ وأشھد أن محمداً عبدہ ورسولہ

جج: ٹھیک ہے۔

مسلمان قیدی : شکریہ

جج: آپ کا وکیل کچھ کہنا چاہتاہے؟

وکیل: جی جناب! میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ دو ہفتے قبل ہی میرے مؤکل نے مجھے منع کردیا تھا کہ میں کچھ نہ بولوں۔

جج: سب باتیں سننے کے بعد میں اس مسلمان دہشت گرد کو عمر قید کی سزا سناتی ہوں۔

مسلمان قیدی: اللہ أکبر ۔ اللہ أکبر

جج نے مسلمان قیدی کو چھ مرتبہ عمر قید کی سزا اور بقایا بیس سال اور دس سال اور متعدد جرمانے لاگو کیے۔ جس پر اس نے خوشی کا اظہار کیا اور دو مرتبہ نعرئہ تکبیر بلند کیا سبحان اللہ!

اس پرمسلم قیدی کا آخری جملہ:

مسلمان قیدی: اگر تم مجھے بولنے دو میری سزا صرف اس عمر کے اختتام تک ہے۔ جتنی مہلت مجھے اللہ نے دی ہے اس ذاتی زندگی میں لیکن اگر تم لوگ ایمان نہیں لائے تو آخرت کی زندگی جس پر تم یقین نہیں رکھتے وہ زندگی ہمیشہ کے لیے ہے۔سوجو سودا میں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اس پر میں بہت خوش ہوں۔ قرآن پاک ہمیں اپنے دفاع کا حق دیتا ہے اور میں یہی کررہا ہوں۔

Read 1110 times
Rate this item
(0 votes)